شوہر بنا حیوان لے لی اپنی بیوی اور 40 دن کی بیٹی کی جان
![]() |
شوہر بنا حیوان لے لی اپنی بیوی اور 40 دن کی بیٹی کی جان |
ضلع شیخوپورہ میں پیش آیا تھا دل دہلا دینے والا واقعہ جس نے زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ کردی ایک درندہ صفت انسان نے شادی کے بعد اپنی بیوی اور ڈیڑھ ماہ کی بیٹی کو منہ پر گولیاں مار کر قتل کردیا شادی کے ایک سال بعد ایسی کیا وجہ ہو سکتی تھی کہ شوہر نے اپنی بیوی اور چھوٹی بیٹی کو قتل کر دیا کیا بیٹی کی ماں بننا تھا اس لڑکی اور بیٹی کا قصور کیا بیٹی پیدا ہونے کی وجہ سے اپنی بیوی اور بیٹی کو مار ڈالا گیا تھا یا اس شخص کو اپنی بیوی پر تھا بدچلنی شعبہ یا اس خوفناک قتل کی وجہ تھی ساس ند بھوات کے جھگڑے وجہ کوئی بھی تھی اس میں چھوٹی بچی اس لڑکی کا کیا قصور تھا کیا اس کا اتنا قصور تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی اور اس لڑکی نے ایک بیٹی کو پیدا کیا یا اس انسان کے دماغ میں تھا کوئی اور فتور جو اپنی پھپھو کے بیٹے کے ساتھ پسند کی شادی کا ابرت ناک انجام ہوا
ملزم اویس نامی شخص نے فائرنگ کر کے اپنی ڈیڑھ ماہ کی بچی کو منہ میں گولیاں مارکر ہلاک کردیا اور اس کے بعد اپنی بیوی فر یہ جو رونا ٹاؤن کی رہائشی تھی اس کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ان کی پسند کی شادی تھی شادی کے بعد اکثر ان کے آپس میں لڑائی جھگڑے جاتے تھے جس سے تنگ آکر جو مختلف فری اپنی ماں کے گھر چلی گئی تھی جس میں وہ اس کے روز جو مرد میں بیعت اس کو منع کر لے کر گھر آیا اور اس کے ذہن میں یہ پہلے سے پلان تھا کہ میں نے اس کو اس طرح کرنا ہے اس لیے جس جس طرح وہ گھر لے کے آیا اس نے پلان کے مطابق پستول نکال کر اپنی بیوی اور مسلم ڈیڑھ ماہ کی بیٹی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا
بھائی اور چچا سے پوچھتے ہیں یہ ماجرا کیا تھا
بھائی
2018میں مطلب انہیں دنوں میں شادی ہوئی تھی ابھی شادی کو تخریبی 11ماہ ہوۓ تھے
بیٹی پیدا ہونے کی وجہ سے انہوں نے یہ حرکت کی ہے مطلب کہ یہ پھپھو تھی مینت ترلے کر کے اس رشتہ لیا تھا انہوں نے رشتہ لے کر دی تھی تو اسی طرح اس مطلب کے گھر والے بھی زیادتی کرتے تھے مارتے پیٹتے پہلے تو انہوں نے کہا کہ ہم کچھ نہیں کریں گے مطلب بیٹی کی طرح رکھیں گے ٹھیک ہے یہ اپنے پاس بیٹی کی طرح رکھیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ٹھیک ہے آئے دن لڑائی جھگڑے لڑائی جھگڑے 3.4 مہینے سے ہمارے گھر ائی ہوئی تھی
تو بیٹی پیدا ہوئی تو اچانک سے گھر آیا تو اس کو لے گیا تو وجہ یہی اس نے بتایا کہ بیٹی پیدا ہونے کی وجہ سے یہ ظالمانہ حرکت کی ہے
اس کی بچی 40دن کی تھی
یہ شخص میری سکی پھپھو کا بیٹا تھا اور اس کی پرچون کی دوکان تھی
ہمارے معاشرے میں ساس بہو اور ندیم بھاون جھگڑے نجانے کتنے ہی گھر تباہ کر چکے ہیں اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے والے کی ماں بہن اس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرتی تھی اسی لئے وہ ناراض ہو کر واپس اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی اور دن اسے منانے آیا اس نے اسی دن اسے گھر لے جا کر معصوم بیٹی اور بیوی کے منہ پر گولیاں مارکر بے رحمی سے قتل کر ڈالا
بیٹی کی پیدائش کے بعد وہ شخص جس
دن اسے منانے آیا اس نے اسی دن اسے گھر لے جا کر معصوم بیٹی اور بیوی کے منہ پر گولیاں مارکر بے رحمی سے قتل ک ڈالا
ابھی موجودہ کی وہ صفات پرندہ جس نے اپنی بیوی اور اپنی بیٹی کو بڑی بے رحمی سے قتل کرتے ہیں کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے ایک ماہ کی بچی کا باپ اس کی گولیاں مارنا تول کر روح کانپ ہوتی ہوتا بات کرتے ہیں انسان نما درندوں کی کیا وجہ تھی کہ ابھی بہت ایک سال ہوا تھا اس کی شادی کو اپنی بیوی اور بیٹی کو استعمال اسلام میں
کیا کر رہے ہو کیا ناسور کی وبا راتوں میں اپنی بیویوں اور اپنی ایک ڈیڑھ ماہ کی بچی کو اپنے ہی ہاتھوں قتل کر دیا
شادی کےسال بعد وہ عورت اسمائے جب تک بچی زندہ تھی وہ تو اپنے منہ سے یہ بھی کہتی تھی کہ یہ تیری بیٹی نہیں ہے لیکن وہ میری بیٹی میری تھی اور انکے پرانا پچاس سال کا ان کی نسل کا کریکٹر کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے یہ فیصلہ کیا پر لاسٹ میں اور کوئی آپشن نہیں نظر نہیں آیا میں مجبور ہو گیا تھا
اس لڑکی کے ساتھ میری شادی لومیرج میں ہوئی تھی تو میں اپنی بیوی کو تین چار گولیاں ماری پہلے بیٹی کو مارا پھر بیوی کو مارا
تو کیوں مارا اپنی معصوم بیٹی کو
اس وقت مجھے ہوش نہیں آیا اب سوچتا ہوں کہ میں نے کیا کیا
شرم آنی چاہیے ایسے انسانوں کو جو اپنے ہی ہاتھوں اپنی اولاد اور ہمسفر کا قتل کر دے







No comments: